...................... .................

اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے

بات بس سے نکل چلی ہے
دل کی حالت سنبھل چلی ہے

اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے
اب طبیعت بہل چلی ہے

اشک خونناب ہو چلے ہیں
غم کی رنگت بدل چلی ہے

یا یونہی، بجھ رہی ہیں شمعیں
یا شبِ ہجر ٹل چلی ہے

لاکھ پیغام ہو گئے ہیں
جب صبا ایک پل چلی ہے

جاؤ اب سو رہو ستارو
درد کی رات ڈھل چلی ہے

جواب لکھیں