...................... .................

تمھیں مجھ سے محبت ہے

محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے!​

کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اِسے تائیدِِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے

یقیں کی آخری حد تک دِلوں میں لہلہاتی ہو!
نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو!

ہزاروں طرح کے دلکش، حسیں ہالے بناتی ہو!
اِسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے​

محبت مانگتی ہے یُوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفلِ سادہ شام کو اِک بیج بوئے
اور شب میں بارہا اُٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھےکہ پودا اب کہاں تک ہے!​

محبت کی طبیعت میں عجب تکرار کی خَو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو –”مجھ سے محبت ہے”
کہو –”مجھ سے محبت ہے”

تمھیں مجھ سے محبت ہے
سمندر سے کہیں گہری ستاروں سے سوا روشن
پہاڑوں کی طرح قائم ،ہواؤں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں

محبت کے کنائے ہیں وفا کے استعارے ہیں

ہمارے ہیں۔

ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں

سُنہرا دن نکلتا ہے

محبت جس طرف جائے،زمانہ ساتھ چلتا ہے ۔ “​

(2)

کچھ ایسی بے سکونی ہے وفا کی سرزمینوں میں
کہ جو اہلِ محبت کو سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو ،کہ جیسے ہاتھ میں پارا
کہ جیسے شام کا تارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
گُماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے اُلفت کا!
یہ عین وصال میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے​

محبت کے مسافر زندگی جب کاٹ چکتے ہیں
تھکن کی کرچیاں چنتے وفا کی اجرکیں پہنے
سمے کی راہ گزر کی آخری سرحد پہ رُکتے ہیں
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے کہتا ہے
“یہ سچ ہے نا———-!
ہماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی!
دُھندلکا سا جو آنکھوں کے قریب و دُور پھیلا ہے
اسی کا نام چاہت ہے
تمھیں مجھ سے محبت تھی
تمھیں مجھ سے محبت ہے!!”​

محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھ ہے!

جواب لکھیں