...................... .................

دی ہے وحشت تو یہ وحشت ہی مسلسل ہو جائے

دی ہے وحشت تو یہ وحشت ہی مسلسل ہو جائے

رقص کرتے ہوئے اطراف میں جنگل ہو جائے

اےمرے دشت مزاجو یہ مری آنکھیں ہیں

ان سے رومال بھی چھو جائے تو بادل ہو جائے

چلتا رہنے دو میاں سلسلہ دلداری کا

عاشقی دین نہیں ہے کہ مکمل ہو جائے

حالت ہجر میں جو رقص نہیں کر سکتا

اس کے حق میں یہی بہتر ہے کہ پاگل ہو جائے

میرا دل بھی کسی آسیب زدہ گھر کی طرح

خود بخود کھلنے لگےخود ہی مقفل ہو جائے

ڈوبتی ناؤ میں سب چیخ رہے ہیں تابش

اور مجھے فکر غرل میری مکمل ہو جائے

جواب لکھیں