...................... .................

یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت

یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
وگرنہ ترکِ تعلق کی صورتیں تھیں بہت

ملے تو ٹوٹ کے روئے نہ کھل کے باتیں کیں
کہ جیسے اب کے دلوں میں کدورتیں تھیں بہت

بھلا دیئے ہیں تیرے غم نے دکھ زمانے کے
خدا نہیں تھا تو پتھر کی مورتیں تھیں بہت

دریدہ پیرہنوں کا خیال کیا آتا؟
امیرِ شہر کی اپنی ضرورتیں تھیں بہت

فراز دل کو نگاہوں سے اختلاف رہا
وگرنہ شہر میں ہم شکل صورتیں تھیں بہت

جواب لکھیں