...................... .................

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی ا±مید بر نہیں آتی
کوئی ص±ورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معیّن ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی ؟
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و ز±ہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو ،چ±پ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغِ دل گر نظر نہیں آتا
ب±و بھی اے چارہ گر نہیں آتی ؟
ہم وہاں ہیں ، جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی

جواب لکھیں