...................... .................

میں جب تیرے گھر پہنچا تھا

میں جب تیرے گھر پہنچا تھا
تو کہیں باہر گیا ہوا تھا
تیرے گھر کے دروازے پر
سورج ننگے پاو¿ں کھڑا تھا
دیواروں سے آنچ آتی تھی
مٹکوں میں پانی جلتا تھا
تیرے آنگن کے پچھواڑے
سبز درختوں کا رمنا تھا
ایک طرف کچھ کچّے گھر تھے
ایک طرف نالہ چلتا تھا
اِک بھولے ہوئے دیس کا سپنا
آنکھوں میں گھلتا جاتا تھا
آنگن کی دیوار کا سایہ
چادر بن کر پھیل گیا تھا
تیری آہٹ سنتے ہی میں
کچّی نیند سے چونک اٹھا تھا
کِتنی پیار بھری نرمی سے
ت±ونے دروازہ کھولا تھا
میں اور ت±و جب گھر سے چلے تھے
موسم کِتنا بدل گیا تھا
لال کھجوروں کی چھتری پر
سبز کبوتر بول رہا تھا
د±ور کسی پیڑ کا جلتا سایہ
ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا

جواب لکھیں