...................... .................

آوازیں …. اور الفاظ….؟

اگر آپ غور فرمائیں گے تو آپ کو اس ملک میں صرف آوازیں سنائی دیں گی….
چاروں طرف آوازیں بکھری ہیں۔ آوازیں آرہی ہیں۔ آوازیں للکار رہی ہیں۔ آوازیں دھمکا رہی ہیں اور آوازیں ڈرا رہی ہیں۔ ان آوازوں کے اندر گھسے پٹے‘ رٹے رٹائے‘ بے اثر اور بے معنی الفاظ سنائی دیں گے یہ وہ آوازیں ہیں جو مختلف موسموں میں مختلف انداز میں اٹھائی جاتی ہیں۔ بٹھائی جاتی ہیں اور دبائی جاتی ہیں۔
ان آوازوں کے گنبد میں سب طبقے شامل ہیں۔ علمائ‘ فقہا‘ سیاستدان‘ ادیب‘ شاعر‘ صحافی‘ کاروباری و متفرق بازیگر…. جس کو جب موقع ملتا ہے۔ الفاظ کی لاٹھی تھام کے آواز لگاتا ہے۔
بحث یہ نہیں ہے کہ یہ آوازیں پل دو پل کی ہوتی ہیں اسی لئے اٹھتے ہی معدوم ہو جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے یہ کتنا خوبصورت ملک ہے کہ ہر کسی کو ہر قسم کی آواز بلند کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن وہ جو خدا کے مرغوب بندے ہیں اور حجروں سے باہر نہیں نکلتے اور مصلے کے اندر آوازیں دباتے رہتے ہیں ان کو کوئی نہیں جانتا….
بارہ ربیع الاوّل کے مقدس معتبر اور خوشبودار دن کی برکتوں سے…. بھی بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ہر کوئی دوسرے مسلمان بھائی کو تلقین کر رہا ہے کہ اسوہ حسنہ کی تعمیل ہی اصل بندگی ہے۔ اس تلقین سے بہتر وہ یقین تھا کہ جو کہنے والے کے دل کے اندر ہوتا ہے اور جو اس کے عمل سے روشنی بن کر ٹپک رہا ہوتا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں ہر چیز کی ایک خاص حد معین ہے۔ اور اسلام کی حدود ہیں۔ پرہیزگاری‘ تواضح‘ صبر اور شکر‘ تقویٰ اور پرہیزگاری ان سب کی جڑ ہے۔ صبر دوزخ سے نجات کا باعث ہے اور شکر جنت کے حصول کا ذریعہ….
حضرت ابراہیم ادھم نے فرمایا کہ تقویٰ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو فرض ہے دوسرا وہ جو ڈر اور خوف سے ہو۔ گویا عوام کا تقویٰ ہے ترک دنیا میں‘ خواص کا تقویٰ ہے ترک جنت میں اور خاص الخاص کا تقویٰ ہے ماسوا اللہ کے ہر شہ ترک کر دینا۔
یحییٰ بن معاذ رازی نے فرمایا ہے۔ دو قسم کا تقویٰ ہے ایک ظاہر ہے اور ایک باطنی‘ ظاہری تقویٰ یہ ہے کہ بندے کا ہر ارادہ اور ہر حرکت اللہ کے لئے ہو۔ اور باطنی تقویٰ یہ ہے کہ بندے کے دل میں اللہ کے سوا کسی کا دخل نہ ہو۔
ایک بار حضرت علی عطار نے فرمایا میں بصرے کے ایک کوچے سے گزر رہا تھا میں نے دیکھا کہ وہاں چند ضعیف بزرگ بیٹھے ہیں اور بچے ان کے اردگرد کھیل رہے ہیں۔ میں نے ان بچوں سے سرزنش کی اور کہا بزرگوں کے سامنے تمہیں کھیلتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ ان میں سے ایک بچہ بولا۔ چونکہ ان بزرگوں میں تقویٰ کم ہو گیا ہے۔ اس لئے ان کی ہیبت بھی کم ہو گئی ہے۔
عمل سے غافل ہوا مسلماں بنائے تقدیر کا بہانہ!
پھر بھی اللہ کا احسان ہے کہ اس ملک میں ایک خاموش اکثریت ہے۔ جو خوف خدا رکھتی ہے اور جو بھی اس سے ہو سکے دامے‘ درمے‘ سخنے‘ قدمے اس ملک کے لئے کرتی رہتی ہے۔ اور جس کی برکتوں اور دعاﺅں سے یہ ملک چل رہا ہے….
جس ملک میں اعتزاز حسین جیسے بچے پیدا ہو رہے ہوں وہاں آج آوازوں کا یہ شور اور تلقین بھرے بیانات کیا اس بات کا ثبوت نہیں ہیں کہ لینے والوں کے اندر تقویٰ کا کوئی ہنر نہیں ہے…. اپنے لئے ہر ناجائز کو جائز سمجھتے ہیں۔ اپنے لئے کرپشن کو منافع کہتے ہیں اور دوسروں کو تلقین کرتے رہتے ہیں۔
دکانداروں نے احادیث مبارکہ دیواروں پر لٹکا رکھی ہیں جن پر لکھا ہے کہ منافع خور دوزخی ہے اور تول مول میں جھوک دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔ مگر پٹرول کی قیمت میں دس پیسے بڑھ جائیں تو وہ اپنی دکان میں کئی مہینوں سے پڑے ہر مال کے اوپر دس روپے بڑھا دیتا ہے اور قسم کھا کے غلط سودا بیچتا ہے۔
اور وہ کون لوگ ہیں جو مردہ گدھوںکا گوشت قسم کھا کر بیچتے ہیں کیا وہ اس سلطنت اسلامیہ کے باسی ہیں جو کتوں کو ذبح کر کے کھلا دیتے ہیں۔ جو مردہ جانوروں کی چربی اتار کر گھی بناتے ہیں اور غریبوں میں بیماریاں تقسیم کرتے ہیں۔
وہ کون لوگ ہیں جودرختوں پر اللہ کے نام لکھ جاتے ہیں اور خود ان ناموں کی تعظیم نہیںکرتے۔ وہ بدنصیب کیا جانیں یہ سرسبز درخت تو خود دن رات اللہ تبارک و تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ ہوا چلتی ہے تو وہ اس کے حلقے میں ہو اللہ احد کا ورد کرنے لگتے ہیں وہ جو صبح و شام غریبوں‘ بے کسوں‘ یتیموں اور بیواﺅں کو کھانا نہیں کھلا سکتے وہ ان ناموں کی تختیاں درختوں پر لگا کر کونسا ثواب کما رہے ہیں۔ جو اللہ سے خود نہیں ڈرتے وہ ڈرانے والے احکامات چوراہوں اور دیواروں پر کیوں لکھ جاتے ہیں۔ جب سے مسلمان عمل کی دنیا سے خارج ہوا ہے اس نے لکھ لکھ کے اشتہار پھیرنا شروع کر دیا۔
کتنے لوگ ہیں جوقسم کھا سکتے ہیں کہ وہ حلال روزی کماتے ہیں کتنے لوگ ہیں جو اعتراف کرتے ہیں کہ وہ عدالتوں کے اندر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور کتنے لوگ ہیں جو ربیع الاول کے روشن مہینے میں بیٹھ کر اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے سب عزیزوں کے حقوق کما حقہ ادا کر دیئے ہیں وراثت کو صحیح طور پر بانٹا ہے۔ اللہ کے خوف سے بعض برے کاموں میں ہاتھ نہیں ڈالا۔
آج جس کو دیکھو دوسرے پر اعتراض کر رہا ہے۔ دوسروں سے نیکی کی توقع کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھ رہا ہے۔
عمل سے غافل ہوا مسلمان بنائے تقدیر کا بہانہ!
پھر بھی اللہ کا احسان ہے کہ اس ملک میں ایک خاموش اکثریت ہے جو خوف خدا رکھتی ہے اور جو بھی اس سے ہو سکے دامے‘ درمے‘ سخنے قدمے اس ملک کے لئے کرتی رہتی ہے اور جس کی برکتوں اور دعاﺅں سے یہ ملک چل رہا ہے۔
جس ملک میں اعتزاز حسین جیسے بچے پیدا ہو رہے ہوں کہ پیدا ہوتے ہی۔ شوق شہادت ان کی پہچان بن جائے۔ اس ملک کی نئی نسل سے کون مایوس ہو سکتا ہے۔ میں ننھے شہید کے والدین کو سلیوٹ پیش کرتی ہوں۔ جنہوں نے تقویٰ سے کمائے ہوئے رزق سے اپنے جگر گوشہ اعتزاز حسین کی تربیت کی اور وہ اپنے ہم وطنوں پر نثار ہو گیا۔ اللہ اس گھر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیشہ انہیں عافیت و برکت کے سائے میں رکھے آمین۔
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

جواب لکھیں