...................... .................

بھینگا شاگرد، استاد اور آئینہ

ایک استاد نے اپنے ایک بھینگے شاگرد سے کہا، میرے گھر جاؤ۔ گھر کے فلاں طاق میں ایک شیشہ رکھا ہوا ہے۔ وہ لے آؤ۔ شاگرد گیا۔ طاق میں اسے اپنے بھینگے پن کے باعث دو شیشے نظر آئے۔ واپس آکر استاد سے کہنے لگا۔ جناب! طاق میں تو دو شیشے پڑے ہیں۔ کون سا شیشہ لاؤں۔ استاد نے کہا۔ دو شیشے کیسے وہاں تو ایک ہی شیشہ ہے۔ شاگرد نے قسم کھا کر کہا۔ جناب! وہاں دو شیشے ہیں۔

استاد نے کہا۔ جاؤ تم ان دونوں شیشوں میں سے ایک شیشہ توڑ دو اور دوسرا لے آؤ۔ شاگر گھر گیا اور پتھر سے اس نے ایک شیشہ توڑ دیا۔ ایک شیشہ توڑنے کے بعد اس نے دیکھا کہ دوسرا شیشہ بھی ٹوٹ چکا ہے۔ وہ حیران رہ گیا کہ یہ کیا بات ہے؟ واپس استاد کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ جناب! کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ایک شیشہ توڑنے سے دوسرا بھی کیوں ٹوٹ گیا۔ استاد نے کہا، بیوقوف تمھاری نظر کا قصور ہے۔ شیشہ تو ایک ہی تھا مگر تمھاری ٹیڑھی نظر سے وہ دو نظر آ رہے تھے۔

مقصدِ بیان
کلمہ طیبہ ایمان کا آئینہ ہے۔ توحید و رسالت کا یہ آئینہ ہر مسلمان کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ حضور ؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ قرآن و حدیث پر ہر مسلمان کا ایمان ہے۔ جو لوگ اللہ اور رسول ؐ کی اطاعت کو ایک سمجھتے ہیں اور ارشاد رسول ؐ کو ارشادِ خدا سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر صحیح ہے لیکن جو لوگ حکم خدا اور حکم رسول ؐ کو الگ الگ سمجھتے ہیں اور اطاعت رسول ؐ کو اطاعت خدا نہیں سمجھتے، وہ بھینگی نظر رکھتے ہیں۔ ایسے بھینگوں نے یہاں حکمِ رسول ؐ کو جو توڑا ہے، انہیں کل قیامت میں پتہ چلے گا کہ حکمِ رسولؐ کو توڑنے سے حکم خدا بھی ٹوٹ گیا تھا۔

قرآن پاک میں ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے”اے محبوب (ﷺ) تم نہیں دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ نہیں دیکھتے۔“ دیکھنے میں آپ ؐ کی طرف دیکھتے نظر آتے ہیں، حالانکہ ان کی نظریں دوسری طرف ہوتی ہیں۔ بھینگے کی نظر اسی طرز کی ہوتی ہے کہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ جیسے یہ ہماری طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ دیکھتا دوسری طرف ہوتا ہے۔ جملہ منکرینِ رسالت کا بھی یہی حال ہے کہ بظاہر کلمہ پڑھتے نظرآتے ہیں اور بباطن ان کا رخ دوسری طرف ہوتا ہے۔

ماخذ: مثنوی کی حکایات، مترجم: مولانا ابوالنور محمد بشیر

جواب لکھیں

%d bloggers like this: