...................... .................

بھنبھور میں جنوبی ایشیا کی قدیم ترین مسجد کے آثار…… محمد صفدر ٹھٹوی

بھنبھور قدیم ترین شہر تھا۔ اس کے کھنڈرات کی کھدائی سے اس خطے کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہوا۔ اس کے آثار گھارو شہر سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ تاریخ دان کزنس نے اس شہر کی پیمائش 600×400 وال مقرر کی تھی۔ ان کھنڈرات کی کھدائی کا کام سب سے پہلے 1930ء میں مسٹر محمند نے کروایا۔ 1951ء میں پاکستان آرکیالوجی نے مسٹرالکاک سے ابتدائی کھدائی کا کام اپنے ذمے لے لیا۔ آثار قدیمہ کے سربراہ ڈاکٹر ایف اے خان کی رائے ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں صدی سے لے کر مسلمانوں نے اس شہر میں رہنا شروع کیا اور تیرھویں صدی تک یہاں رہے۔ یہاں سب سے پہلے عرب کے مسلمانوں نے رہائش اختیار کی۔ یہاں سے ملنے والے سکے اموی خلیفہ ہشام بن عبدالمالک کے ہیں۔ ان کا دور 105ھ سے 125ھ تک تھا۔ ایک سکے پر خلیفہ مہاامویہ الامیر ہشام بن عبداللہ اکبر درج ہے۔ ان کی تاریخ کا اندازہ لگایا گیا تو یہ تاریخ محمد بن قاسم کے دیبل فتح کرنے اور تین سال سندھ میں رہنے کے دور کی ہیں۔

1960ء کے بعد جب بھنبھور کے آثار کی کھدائی کی گئی تو اکثر ماہرین اس بات پر متفق ہو گئے کہ یہی وہ جگہ تھی جہاں برصغیر کی پہلی مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ تاریخی شواہد سے ظاہر ہوا کہ بحری بندرگاہ بحیرہ عرب پر ایک بہت بڑے ساحلی شہروں کی صورت میں موجود تھی۔ اس کے چاروں طرف ایک مضبوط قلعہ تھا۔ درمیان میں ایک اسٹوپا تھا جس کے اُوپر ایک بڑا پرچم تھا۔ ”چچ نامہ“ کے مطابق اس جھنڈے کا کپڑا 12گز کا تھا۔ مسلمانوں کے آٹھ روز کے محاصرے کے بعد جب ایک مسلم انجینئر نے اس کو منجیق سے اُڑایا تو شہر فتح ہو گیا۔ فتح کے بعد مسجد کی تعمیر کی گئی۔ اس شہر میں ایک وقت پر تین لاکھ نفوس آباد تھے۔ یہ سندھ کی اہم بڑی بندرگاہ تھی۔ بھنبھور کی یہ جامع مسجد شہر کے وسط میں واقع ہے۔ اس کے صحن سے جو کتبے ملے ہیں، وہ پتھروں پر خط کوفی میں کنندہ ہیں۔ تاریخی نقطہ نظر سے یہ کتبے بہت دلچسپ اور معلوماتی ہیں۔ ان پر درج معلومات مورخین اور محققین کی تحقیق وتصنیف میں مشعل راہ کا کام دیں گی۔ ان کتبوں میں سے ہر ایک پر 727 شمسی کنندہ ہے، یہی وجہ ہے کہ محقق اسے برصغیر پاک وہند کی قدیم ترین مسجد قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ایف اے خان کی رپورٹ میں ہے کہ بھنبھور سے ملنے والے سکے زیادہ تر اسلامی دور کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ چند سونے کے سکے بہتر حالت میں بھی ملے ہیں۔ اسلامی دور کے مختلف ادوار 624ء، 842ء، 847ء کے سکے ملے ہیں۔ عربی دور کے سکوں پر بسم اللہ لکھی ہوئی ہے۔ کچھ سکے اسلامی دور سے قبل کے ہیں۔ ایک دو سکوں پر 622ء / 32ھ لکھا ہوا ہے۔ سب سے اہم تصدیق جامع مسجد کا دریافت ہونا ہے۔ مسجد پر کوفی خط میں 109ھ (737ء) سندھ لکھا ہوا ہے۔ برصغیر میں مسلمان دور کی یہ پہلی مسجد ہے جو بھنبھور کی کھدائی کے بعد ظاہر ہوئی۔
سندھ کے تاریخ دان عبداللہ وریاھ بھنبھور سے متعلق اپنے مقالے ”بھنبھور سے ملے کتبے“ میں لکھتے ہیں کہ بھنبھور سے پہلا کتبہ 1960ء کی کھدائی کے دوران اس حصے سے ملا جہاں مسجد بتائی جاتی ہے۔ اس کتبے کی پیمائش 1.11×1.4 میٹر اور موٹائی ایک فٹ ہو گی۔ عام پیلے پتھر پر عربی کوفی رسم الخط میں چھ جملوں میں یہ تحریر ملی۔ 1960ء میں ڈاکٹر ایف اے خان اور پھر بعد میں ڈاکٹر ایم اے غفور نے 1966ء میں اس تحریر کو اس طرح پڑھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مما اور بہ الامیر ھیرون بن
محمد موسیٰ امیرالمومنین اعزہ
اللہ علی یدی علی بن عیسیٰ مولیٰ
امیرالمومنین اکرمہ اللہ سنہ
تسع وثلثین
ڈاکٹر ایم اے غفور نے تحقیق کے بعد اس کتبے کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کتبے میں ذکر کیا گیا ہارون بن محمد اصل میں ہارون بن ابی خالد المروزی، عباسی خلیفہ المتوکل (247-232ھ) کی جانب سے سندھ میں مقرر کیا گیا گورنر ہے۔ اسی ہارون نے یہ کتبہ 239ھ میں دیبل میں عمارتوں کی مرمت کے دوران لگوایا تھا۔

سندھ کے تاریخ دان حافظ ارشد انسریٹر نے اپنے مقالے دیبل کی حیثیت میں لکھا ہے کہ چنگیز خان سے شکست کھانے کے بعد کچھ عرصے کے لیے جلال الدین خوارزم شاہ بھی دیبل آیا تھا۔ اس نے دیبل میں بہت لوٹ مار کی جس کے شواہد مختلف کتابوں سے ملتے ہیں۔ اس نے مندر کو مسجد میں تبدیل کیا جو کافی عرصے سے مندر کی حیثیت کھونے کے بعد قیدخانے کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ جلال الدین شاہ دیبل میں 618ھ مطابق 1212ء میں آیا تھا۔ ہندوستان پر اس وقت غلام گھرانے کی حکومت تھی۔ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نے اپنے ایک تحقیقی مقالے جو انگریزی رسالے اسلامک کلچر (حیدرآباد دکن) میں 1952ء میں شائع ہوا، میں دلیل طور پر جلال الدین خوارزم شاہ والی مسجد اور دیگر جگہوں کے بارے میں حتمی رائے دی تھی۔ طبقات ناصری کے مؤلف لکھتے ہیں کہ جلال الدین خوارزم شاہ سندھ آیا، اس نے دیبل کو لوٹا اور ایک مندر کی جگہ مسجد تعمیر کروائی۔ معروف ادیب تاریخ دان ڈاکٹر ایف اے خان اپنے مقالے بھنبھور، دیبل کے آثار میں البلاذری (892ء) کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بلازری کے مطابق دیبل کی اُونچی عمارت بت خانہ تھی۔ اسے محمد بن قاسم نے منجنیق سے گرایا۔ محمد بن قاسم نے وہاں ایک مسجد بھی بنوائی۔ آٹھویں عباسی خلیفہ (892-833ء) کے دور میں بت خانے کا ایک حصہ قید خانے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مزید لکھتے ہیں کہ امیہ دور (711-850ء) جس میں اسلام برصغیر میں پھیلا۔ اس میں شامی طرز کے قلعے کی دیوار کی تعمیر کی گئی۔ امیہ دور کی عظیم الشان عمارت شاہی مسجد ہے۔ کوفی رسم الخط میں تاریخ لکھا کتبہ مسجد کو برصغیر کی پہلی مسجد ثابت کرتے ہیں، اُمیہ دور کے سفید برتن بھی ملتے ہیں جو شام سے لائے گئے تھے۔
ممتاز راشدی اپنے تحقیقی مقالے بھنبھور کی تلاش میں مسجد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جو تحریریں اور مواد ملا ہے، ان سے پتہ چلتا ہے کہ برصغیر کی سب سے پرانی قدیم مسجد بھنبھور میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ مسجد کھدائی میں ظاہر ہوئی۔ یہ دعویٰ اس طرح بھی صحیح ثابت ہوتا ہے کہ یہاں سے سونے اور چاندی کے سکے ملے ہیں، یہ سکے خلیفہ ہشار بن عبدالمالک اور المامون کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ کے معروف محقق اور تاریخ دان ڈاکٹڑ غلام علی الانا اپنے مقالے بھنبھور کے آثار میں لکھتے ہیں۔ یہ آثار سندھ کے قدیم اور تاریخی دیبل بندر کے اجڑے شہر کے ہیں۔ دوسرا نقطہ یہ ہے کہ بھنبھور والی مسجد برصغیر کی سب سے پہلی مسجد ہے جو اس شہر کو فتح کرنے کے فوراً بعد بنوائی گئی تھی۔ اس سلسلے میں اس عمارت کے قریب سے پتھر پر اُبھری تحریریں آخری دلیل ہیں۔ اس طرح ان آثار سے سندھ میں اسلامی دور اور اسلام سے قبل دور کے سکے ملے ہیں مگر ان پر اب تک جامع تحقیق نہیں کی گئی۔ میر حاجی محمد بخش خان ٹالپر ”قصہ سسی پنوں“ میں لکھتے ہیں، بھنبھور کے آثار کی کھدائی میں نئی زندگی بخشنے اور قدیم مسجد کے کتبے ظاہر کرنے والی ہستی ڈاکٹر ایف اے خان لکھتے ہیں کہ بھنبھور کی تباہی میں ندی کا رُخ مُڑنے اور جلال الدین خوارزم شاہ کا بڑا ہاتھ ہے۔ جن کے ثبوت نقصان شدہ عمارتوں سے ملے ہیں۔ پروفیسر امینا خمیسانی نے اپنی تحریر ”بھنبھور آریانی اجاڑیو“ میں قلمبند کیا ہے۔ اسلامی دور کی شروعات 712ء میں محمد بن قاسم کے دور سے ہوئی۔ بڑی مسجد جو شہر کے درمیان ہے۔ یہ اس خطے کی سب سے پہلی مسجد ہے۔ جہاں تاریخ لکھے سکے دریافت ہوئے، کوفے کی مساجد کی طرح اس مسجد میں بھی محراب نہیں تھا۔ یہ مسجد 670ء اور 707ء کے عرصے کے درمیان میں تعمیر کی گئی۔ اس کے اندر داخل ہونے کے دو دروازے تھے۔ یہاں مستند محقق تاریخ دانوں کے حوالے اس لیے درج کیے ہیں کہ پڑھنے والے متفق ہو سکیں کہ یہ مسجد برصغیر کی اوّلین مسجد بھی ہے۔
بھنبھور کی مسجد 130فٹ لمبی اور 125فٹ چوڑی ہے۔ مسجد کے عین وسط میں ایک صحن ہے جس کا طول وعرض تقریباً 75 اور 60 فٹ ہے۔ آثار سے اندازہ ہوتا ہے کہ دالان پتھر کے بنے ہوئے ستونوں پر چھت سے ڈھکا ہوا تھا۔ مسجد میں ایک جانب وضو کرنے کے لیے علیحدہ جگہ بنی ہوئی تھی۔ پانی کی نکاسی کے لیے ایک نالی اور تین اطراف میں دروازے بنائے گئے تھے۔ شمالی اور مشرقی جانب بڑے دروازے اور مغربی جانب چھوٹا دروازہ، جس کے ساتھ ہی کچھ سیڑھیاں بھی تھیں۔ مشرقی جانب غالباً مسجد کا صدر دروازہ تھا جو اس وقت شکستہ حالت میں ہے اور اس دروازے کے قریب خط کوفی میں تحریرشدہ ایک بڑے کتبے کے ٹکڑے بھی دستیاب ہوئے ہیں۔ شمالی دروازہ زمانے کی دست برد سے محفوظ رہا، اس لیے وہ اچھی حالت میں ہے۔اس کے اندرونی حصے میں لکڑی کی چوکھٹ اور دہلیز کے نشانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ چوکھٹ لوہے کی کیلوں کے ساتھ نصب کی گئی تھی۔ مسجد اور اس کے ملحقہ علاقے سے متعدد ایسے کتبے ملے ہیں جن سے مسجد کے مختلف ادوار کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کتبوں کا رسم الخط کوفی ہے۔

بھنبھور کی مسجد کی بیرونی دیواریں پختہ اور عمدہ پتھروں سے مزین ہیں۔ اس کے صحن میں اینٹوں کا فرش تھا۔ اس کے تین اطراف میں دالان اور گردشیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ دالان اس وقت چھوٹے چھوٹے حجروں میں تقسیم تھے جس میں مسلمان مصروف عبادت ریتے ہوں گے یا درس وتدریس کے لیے استعمال کرتے ہوں گے۔ اس کی چوتھی سمت ایک وسیع ایوان کے آثار بھی موجود ہیں جن میں ستونوں کے پایوں کی موجودگی اس بات کی شاہد ہے کہ اس کی چھت 6 ستونوں پر قائم تھی۔ یوں تو اس مسجد سے بکثرت تاریخی چیزیں دریافت ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم وضو کرنے والا چبوترہ ہے جس کے فرش پر کچھ چراغ بکھری ہوئی حالت میں ملے ہیں۔ ان شواہد سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخری دور میں یہ چبوترہ بطور گودام استعمال ہوتا ہو گا جس پر غالباً مٹی کے چراغ رکھے جاتے تھے۔
ماہرین کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ یہ مسجد آٹھویں صدی میں تعمیر ہوئی اور تیرہویں صدی تک قائم رہی کیونکہ اس زمانے کے شواہد بہت واضح اور نمایاں ہیں۔ بھنبھور مسجد کی برصغیر میں بڑی اہمیت ہے کیونکہ یہی وہ علاقہ ہے جس سے مسلمانوں کی آمد کے بعد درس وتدریس کا تعلق تھا۔ اس مسجد کے آثار دریافت ہونے سے برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ ہوا ہے۔
حوالہ جات:
تاریخ سندھ (اعجاز الحق قدوسی)
لاڈکی ادبی ثقافتی تاریخ (ڈاکٹر غلام علی الانا)
بھنبھور اور دیبل (مرتب: عبدالقادر منگی)
بھنبھور کی مسجد کے آثار (مرزا کاظم رضابیگ)
جنت السندھ (رحیم داد خان مولائی شیدائی)

جواب لکھیں

%d bloggers like this: