...................... .................

اقبال ؒ، رمضان عطائی اور عشقِ رسول ؐ

”اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں چُن لیا جاتا ہے۔ اللہ انہیں اپنی بے پایاں عنایات کی آغوش میں لے لیتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ تو حضور ﷺ کی قربتوں اور اس عہدِ سعید کی برکتوں سے براہِ راست فیض یاب ہوئے، مگر ایسے بامراد ہر دور میں گزرے ہیں، جن کے دلوں میں عشقِ رسول ؐ کا چراغ روش ہوا اور ان کی زندگی کے ہر لمحے کو فروزاں کرگیا۔

ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہوا۔ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے و الے ایک پٹھان، اللہ داد خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اُس کا نام محمد رمضان رکھا گیا۔ رمضان ہونہار طالب علم نکلا۔ بی اے کے بعد بی ٹی کا امتحان پاس کیا اور بطور انگلش ٹیچر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ طبعیت میں فقیرانہ استغنا بھی تھا اور صوفیانہ بے نیازی بھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سرکارِ انگلیسیہ کا ملازم ہونے کے باوجود کبھی دیسی لباس ترک نہ کیا۔ چہرہ سنتِ رسول ؐ سے سجا لیا۔ ہمیشہ ہاتھ میں ایک موٹی سوٹی اور کندھے پر بڑا سا تولیہ ڈالے رکھتے۔ فارسی اور اردو میں شعر کہتے۔ علامہ اقبال ؒ کے عشاق میں سے تھے۔ ان کے کئی اشعار پر تضمین کہی، جو علامہ نے پسند کی۔ مولانا فیض محمد شاہ جمالی کے مرید اور حضرت خواجہ نظام الدین تونسوی ؒ کے حلقہ نشین تھے۔ ایک سیاسی خاندان کے نوجوان، عطا محمد جسکانی سے گہرے لگاؤ کے باعث تخلص اختیار کیا اور محمد رمضان عطائی کہلانے لگے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب عطائی ڈیرہ غازی خان کے گورنمنٹ سکول میں تعینات تھے۔ تب ان کے قریبی شناسا مولانا ابراہیم ناگی ڈیرہ غازی خان میں سب جج تھے۔۔۔۔۔ابراہیم ناگی ایک درویش منش اور صاحب علم شخصیت تھے۔۔۔۔علامہ اقبال ؒ سے گہری محبت رمضان عطائی اور ابراہیم ناگی کے درمیان دوستانہ قربت کی قدر مشترک تھی۔ مولانا ابراہیم کو علامہ اقبال ؒ سے ملاقاتوں کا اعزار بھی حاصل ہے۔
ایک دن مولانا ابراہیم لاہور گئے اور علامہ اقبال ؒ سے ملاقات ہوئی۔ واپس آئے تو سرشام معمول کی محفل جمی اور علامہ اقبال ؒ سے ملاقات کا ذکر چلا تو عطائی کا جنون سلگنے لگا۔ مولانا ابراہیم نے جیب سے ایک کاغذ کا پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا: ”لو عطائی، علامہ صاحب کی تازہ رُباعی سنو۔“ پھر وہ عجب پُرکیف انداز میں پڑھنے لگے۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذرہائے من پذیر
در حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہ مصطفےٰ ؐ پنہاں بگیر

مولانا ابراہیم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، لیکن محمد رمضان عطائی کی کیفیت روتے روتے دگرگوں ہو گئی۔ اسی عالم وجد میں فرش پر گرے، چوٹ آئی اور بے ہوش ہو گئے۔ رباعی ان کے دل پر نقش ہو کے رہ گئی۔ اٹھتے بیٹھتے گنگناتے اور روتے رہتے۔ انھیں دنوں حج پر گئے۔ اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ ”جب حجاج اوراد اور وظائف میں مصروف ہوتے تو میں زاروقطار روتا اور علامہ کی رباعی پڑھتا رہتا“۔ حج سے واپسی پر عطائی کے دل میں ایک عجیب آرزو کی کونپل پھوٹی: ”کاش یہ رباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی“۔

یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال ؒ کے نام ایک خط لکھا: ”آپ سر ہیں، فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار، لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی“۔ انہوں نے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے چیدہ چیدہ فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا؛”فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رباعی مجھے عطا فرما دیں“۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ انھیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:

”جناب محمد رمضان صاحب عطائی
سینئر انگلش ماسڑ، گورنمنٹ ہائی سکول، ڈیرہ غازی خان

جنابِ من! میں ایک مدت سے صاحب فراش ہوں۔ خط و کتاب سے معزور ہوں۔ باقی شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلا تکلف وہ رباعی، جو آپ کو پسند آ گئی ہے، اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فقط
محمد اقبال، لاہور
19فروری1937ء

علامہ ؒ کی یہ عطا جناب عطائی کیلئے توشہئ دوجہاں بن گئی۔ علامہ نے یہ رباعی اپنی نئی کتاب ’ارمغان حجاز‘ کے لئے منتخب کر رکھی تھی، مگر عطائی کی نذر کر دینے کے بعد ابھوں نے اسے کتاب سے خارج کر کے، تقریباً اسی مفہوم کی حامل ایک نئی رباعی کہی جو ’ارمغانِ حجاز‘ میں شامل ہے:

بہ پایاں چوں رسد ایں عالمِ پیر
شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکُن رُسوا حضورِ خواجہ ما را
حسابِ من زچشمِ او نہاں گیر

(اے میرے رب! جب (روز قیامت) یہ جہانِ پِیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے تو اس دن مجھے میرے آقا ومولا ﷺ کے حضور رُسوا نہ کرنا اور میرا نامہئ اعمال آپ ﷺ کی نگاہوں سے چھپا رکھنا۔)

عطائی ایم اے کا امتحان دینے لاہور گئے تو شکریہ ادا کرنے کے لئے حضرتِ علامہ ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہمراہ جانے والے چودھری فضل داد نے تعارف کراتے ہوئے کہا: ”بوڑھا طوطا ایم اے فارسی کا امتحان دینے آیا ہے۔“

علامہ ؒ ایک کُھری جھلنگا چارپائی پر سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ بولے: عاشق کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔“ رباعی کا ذکر چل نکلا۔ عطائی نے جذب وکیف سے پڑھنا شروع کیا:”تُو غنی از ہر دو عالم۔۔۔۔“ علامہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے۔ اتنا روئے کہ سفید چادرکے پلو بھیگ گئے۔ اس کے بعد عطائی کی علامہ ؒ سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔

محمد عطائی کی علامہ ؒ سے آخری ملاقات ان کے انتقال سے کوئی چار پانچ ماہ قبل دسمبر 1937ء میں ہوئی۔ انھوں نے علامہ ؒ سے کہا: ”سنا ہے جناب کو دربارِنبویﷺ سے بلاوا آیا ہے۔“ علامہ آبدیدہ ہوگئے۔۔۔آواز بھرا گئی۔ بولے:”ہاں! بے شک، لیکن جانا نہ جانا یکساں ہے۔ آنکھوں میں موتیا اُتر آیا ہے۔ یار کے دیدار کا لطف دیدہِ طلب گار کے بغیر کہاں؟“ عطائی نے کہا:”جانا ہو تو دربار نبوی ﷺ میں وہ رباعی ضرور پیش فرمایئے گا، جو اب میری ہے۔“ علامہ زاروقطار رونے لگے۔ سنبھلے تو کہا:”عطائی اس رباعی کو بہت پڑا کرو۔ ممکن ہے خداوند کریم مجھے اس کے طفیل ہی بخش دے۔“

جواب لکھیں

%d bloggers like this: