...................... .................

حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ…… غلام یٰسین نظامی

حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ کی ولادت ماہِ شعبان المعظم 1145ء یا 1146ء میں ہوئی۔ آپؒ کا خاندان ایران کے شہر نیشاپور میں واقع گاؤں کدکن میں مقیم تھا۔آپؒ کا اصل نام محمد بن ابی بکر ابراہیم،کنیت ابو حامد یا ابو طالب، لقب فریدالدین، تخلص عطار ہے۔ چونکہ آبائی پیشہ عطاری تھا اسی لئے”عطار“ اور”فرید“ تخلص کے طور پر لکھتے تھے۔ عطار کا لفظی مطلب ”ادویات کے ماہر“ کا ہے جو آپ کا پیشہ تھا۔ اس کے علاوہ آپ فارسی نژاد مسلمان شاعر، صوفی اور ماہر علوم باطنی تھے۔ آپؒ کا علمی خاصہ اور اثر آج بھی فارسی شاعری اور صوفیانہ رنگ میں نمایاں ہے۔ آپؒ نے ابتدائی عمر میں والد ابوبکر ابراہیم عطاری کی دکان پر کام کیا۔ اسی دوران میں طب بھی پڑھی اور بحیثیت طبیب خدمت خلق کرنے لگے۔

شیخ فریدالدین عطارؒ اوائل عمری سے شباب تک علوم وفنون کی تحصیل میں مصروف رہے۔آپؒ نے دوسرے شعراء کی طرح شاعری کا پیشہ ذریعہ معاش کے لئے نہ اپنایا۔ علم کلام، نجوم، فلسفہ، قرآن وحدیث، فقہ، طب اور ادب میں مہارت حاصل کی۔آپؒ اپنے والد کے مرشد قطب الدین حیدر سے فیضیاب ہوئے اور انہی کی نگرانی میں تصوف ومعرفت کے مدارج طے کئے۔ بچپن ہی سے آپؒ درویشوں اور صوفیوں کے پاس بیٹھنا پسند کرتے تھے۔

اپنی عمر اور عشق و محبت کی پیچیدہ منازل کو کن حالات میں طے کیا ہے، اس کا ذکر ان کی تخلیقات میں جا بجا ملتا ہے۔ آپؒ کی ”توبہ“ اور”تارک الدنیا“ہونے کا ایک واقعہ عام تذکرہ نگاروں نے درج کیا ہے۔ شیخ عبدالرحمن جامی لکھتے ہیں۔”ایک روز شیخ فرید الدین عطار اپنی دکان کے کاروبارمیں مصروف تھے۔ دکان کا مال سنبھال رہے تھے اور روپے پیسے کے الٹ پھیر میں مشغول تھے کہ اچانک ایک درویش آیا۔ اس نے اللہ کے نام پر خیرات کا سوال کیا۔ شیخ فریدالدین عطارؒ اپنے کاروبارمیں مصروف تھے۔ درویش کی صدا پر کوئی توجہ نہ دی بلکہ روپے پیسے کی ریل پیل میں لگے رہے۔ صدا لگانے والے درویش نے کہا دنیا میں اس قدر لگے ہوئے ہو تو آخر آپ کو موت کب آئے گی؟حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ نے غصہ میں جواب دیا جس طرح تمہیں موت آئے گی، مجھے بھی اسی طرح موت آئے گی۔ صدا لگانے والے درویش نے کہا کہ میری طرح مرنا چاہتے ہو؟ یہ کہہ کر درویش نے اپنا لکڑی کا پیالہ سرہانے رکھا، زمین پر لیٹا زبان سے کلمہ پڑھتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپؒ یہ منظر دیکھ کر دنیاوی کاموں سے دستبردار ہو گئے، سارا شفاخانہ احباب میں لٹا دیا اور عشق الٰہی کی دکان پرآ بیٹھے۔

حضرت شیخ فریدالدینؒ بھی مشرق کے ان علماء میں سے ہیں جن کے پندونصائح سے صرف اہل مشرق ہی نہیں بلکہ اہل مغرب نے بھی فیض حاصل کیا۔ آپؒ نے شیخ رکن الدین اسکاف کی خدمت میں کئی سال بسر کئے اور آخر کار شیخ مجددالدین بغدادی کے ہاتھ پرب یعت کی اور آگے چل کر سلوک ومعارف کے مراتب طے کئے۔ حضرت مولاناجلال الدین رومیؒ لکھتے ہیں ”حضرت حسین منصورحلاجؒ کی روح نے ڈیرھ سو سال بعد حضرت عطار پر اثر کیا، شیخ جلال الدین رومیؒ جن کو مولانا روم کہا جاتا ہے، اپنے بچپن میں شیخ عطار کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اسی وقت شیخ عطارؒ نے اپنا رسالہ ”اسرارنامہ“ ان کو دیا۔ مولانا رومؒ نے عطار اور سنائی کی عظمت کا اقرار کیا ہے اور ساتھ ہی ان سے فیوض وبرکات بھی حاصل کیے۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں۔”میری شاعری میں مٹھاس ہی مٹھاس ہے لیکن میری شاعری کا اصل منبع و مرجع شیخ فریدالدین عطارؒ کی ذات ہے۔ شاعری کے میدان میں خود کو میں شیخ فریدالدین عطارؒ کا غلام تصور کرتا ہوں“۔
آپؒ کے منظوم کلام میں چار چیزیں خطا کے زمرے میں آتی ہیں۔ پہلی چیز عورت سے وفا کی امید کرنا اور بیوقوف سے بے خوف وپُراطمینان ہونا، بچوں کی صحبت ان دونوں چیزوں سے بُری ہے۔ چوتھی چیز دشمن کے مکروفریب سے بے خوف رہنا کیونکہ دشمن سے ماسوائے دشمنی کے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

”پندنامہ“ایک مختصر سی کتاب ہے لیکن اس میں عطارنے زندگی گزارنے کا ہنر پیش کیا ہے۔”منطق الطیر“ شیخ عطار کا شاہکار ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے تصوف کے مسائل کو تمثیل کی صورت میں بیان کیا ہے۔ اسی کتاب سے ایک حکایت ہے: ایک ماں کا بچہ گہرے پانیوں میں گر گیا اور ماں بچاری مامتا کی ماری تڑپ اُٹھی۔ بچہ حیرانی اور پریشانی کے عالم میں ہاتھ پاؤں مار رہاتھا۔ پانی اس کی گردن کو چُھو رہا تھا۔ پانی کاریلا اس کو آگے ہی آگے بہاکر لے جا رہا تھا۔ جب ماں نے دیکھا تو پیچھے سے پانی میں کود پڑی۔ اور جلدی سے بچے کو بہتے پانی میں سے نکال لیا، اسے گود میں لیا اور دودھ پلایا۔“

یا رسول اللہؐ! اپنی امت پر آپؐ ماں سے کہیں زیادہ مشفق اور زیادہ مہربان ہیں۔ میں بھی گناہوں کی ندی میں ڈوبنے لگا ہوں۔ مہربانی فرما کر مجھے باہر نکال لیجیے۔ میں گناہوں کے گرداب میں حیران وپریشان ہو کر پھنسا پڑا ہوں۔ میری حالت اس بچے کی طرح ہے جو پانی میں ڈوب چلا ہو۔ میں اسی پریشانی میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں۔ اے اپنے بچوں پر شفقت کرنے والے نبی ؐ ! مہربانی فرما کر غرق ہونیوالے اپنے بچے کو بچا لیجیے۔ ہماری اس جان پر رحم کیجیے جو آپ ؐ سے دور ہو کر گہرے پانیوں میں ڈوب رہی ہے۔

حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ نے نظم ونثر میں بہت سی تصنیفات چھوڑی ہیں۔ حکایات فریدالدین، تذکرہئ اولیا، مقامات الطیور یا منطق الطیر، مصیبت نامہ، اسرار نامہ، الٰہی نامہ، دیوان، بیئر نامہ، پندنامہ، وصیت نامہ، خسرووگل اور شرح القلب، جواہرنامہ، مختارنامہ، شاہنامہ وغیرہ آپؒ کی مشہور کتابیں ہیں۔ آپؒ کی شہادت کا واقعہ تذکرہ نگاروں نے اس طرح لکھا ہے کہ تاتاریوں کے عین ہنگامے میں ایک سپاہی نے شیخ کو گرفتار کیا، ایک راہ گیر نے بڑھ کر کہا ”دیکھنا اس مرد ضعیف کو قتل نہ کر دینا، دس ہزار اشرفیاں نقد دیتا ہوں کہ ان کو چھوڑ دو“ شیخ نے کہا خبردار اتنے پر مجھے فروخت نہ کر دینا، میری اس سے کہیں زیادہ قیمت ہے۔“ سپاہی خوش ہوا کہ اس سے بھی زیادہ دولت ہاتھ آئے گی اور وہ بھی بالکل مفت آگے بڑھ گیا۔ آگے ایک اور شخص ملا۔ اس نے کہا کہ میاں سپاہی اس بوڑھے کو مجھے دے ڈالو میں ایک گٹھا گھاس کا اس کے معاوضے میں دیتا ہوں۔ شیخ بولے ہاں دے ڈال کہ میری قیمت اس سے بھی کم ہے۔ سپاہی کے تن بدن میں آگ لگ گئی کہ دس ہزار اشرفیاں ملتی ہوئی ہاتھ سے گئیں۔ جھلا کر وہیں سر تن سے جدا کر ڈالا۔آپ کی شہادت1221ء میں ہوئی، آپؒ کا مزار نیشاپور میں واقع ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: