...................... .................

جناب! وہ دوا تو پاگلوں کیلئے ہے!

جالینوس نے ایک دن اپنے شاگروں سے کہا کہ مجھے فلاں دوا فوراً لا کر دو۔ تا کہ میں کھاؤں۔ شاگردوں نے کہا جناب! وہ دوا تو پاگلوں کے لیے ہے۔ جسے جنون لاحق ہو اسے استعمال کرائی جاتی ہے۔ خدا نہ کرے کہ آپ کو اس دوا کی ضرورت پڑے۔ جالینوس نے کہا تم وہی دوا لا کر مجھے کھلاؤ کیونکہ آج ایک پاگل نے مجھے دیکھا تو بڑی محبت سے مجھے گلے ملا اور مجھ سے پیار کی باتیں کرتا رہا۔ پھر اس نے ایک دم میری آستین کو پھاڑ ڈالا۔ میں نے سوچا اگر وہ پاگل مجھے اپنا ہم جنس نہ سمجھتا تو کبھی میری طرف نہ آتا نہ مجھے گلے ملتا اور نہ پیار کی باتیں کرتا۔ جب دو شخصوں میں ربط و ضبط ہو تو ضرور ان کے درمیان کوئی قدر مشترک موجود ہوتی ہے:

کے پرد مرغے بجو با جنس خود
صحبت نا جنس گور است و لحد

پرندہ اپنے ہم جنس کے سوا دوسرے کے ساتھ کب اڑتا ہے۔ صحبت نا جنس تو مرنے کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔

مقصد بیان
کسی متقی سے اگر کسی عیاش کو گلے ملتے یا کسی حق گو عالم سے کسی بدعقیدہ کو ملتے جلتے دیکھو تو ایسے متقی و عالم کے لیے دُعا کیجیے کہ خدا اسے عیاشی اور بدعقیدگی سے محفوظ رکھے کیونکہ متقی اور خوش دلی سے ملے گا۔ تو وہ ضرور اسے کچھ نہ کچھ اپنا ہم خیال ہی سمجھ کر ملے گا ورنہ بدعقیدہ آدمی تو حق گو عالم کے نزدیک بھی نہیں آتا:

دور شو از اختلاطِ یارِ بد
یار بد بدتر بود از مارِ بد

ماخذ: مثنوی کی حکایات، مترجم: مولانا ابوالنور محمد بشیر

جواب لکھیں

%d bloggers like this: