...................... .................

عاشق اور محبوب کا دروازہ

ایک عاشق نے اپنے محبوب کے گھر کے دروازے پر آکر دستک دی اور کہا دروازہ کھولو۔

محبوب نے پوچھا کون ہے؟ عاشق بولا”میں تمہارا عاشق صادق۔“۔ محبوب نے کہا تو ابھی سچا عاشق نہیں، تجھ میں ابھی ”میں“ باقی ہے۔ جب تک تم میں ”میں“ باقی رہے گی تم کامیابی سے دور رہو گے۔ تمھارے خام ہونے کی یہی دلیل ہے کہ تمھارے سر میں ابھی کِبر و غرور موجود ہے۔ کِبر و غرور نہ ہو تو ”میں“ بھی باقی نہیں رہتی۔ جاؤ واپس چلے جاؤ اور ہجروفراق کی آگ میں اس ”میں“ کو جلا کر آؤ۔

عاشق واپس آگیا اور سال بھر ہجروفراق میں جلتا رہا۔ ایک سال بعد پھر درِ محبوب پر حاضر ہوا اور دستک دی۔ محبوب نے پوچھا کون ہے؟ عاشق نے جواب دیا ”جانِ من اندر بھی تُو ہے اور باہر بھی تُو ہے۔ محبوب نے یہ جواب سنا تو دروازہ کھول کر کہا ”اب آ جاؤ۔ اب تجھ میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں رہا۔“

مقصدِ بیان
قوم کے لیڈر میں اگر اقتدار کی ہوس ہو اور وہ چاہے کہ میں لیڈر کہلاؤں، لوگ میرے پیچھے پھریں، میں قائد بنوں، جو میں کہوں وہی ہو، جو میں نہ کہوں وہ نہ ہو۔ اپنا مفاد سامنے رکھے اور قوم کا مفاد اس کے پیشے نظر نہ ہو۔ ایسا لیڈر قوم کا عاشق صادق نہیں۔ ہاں! جو لیڈر اپنی ”میں“ کو قوم کے سامنے مٹا دے اور فنا فی القوم ہو جائے اور قوم کے مفاد کو اپنا مفاد سمجھے وہ سچا لیڈر ہے۔ ایسے لیڈر اور قوم میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں ایک ہیں۔ ایسا لیڈر اس قابل ہے کہ قوم اپنے دل کا دروازہ کھول کر اسے اپنے دل میں جگہ دیتی ہے، مگر ایسے لیڈروں سے خدا بچائے جن کے متعلق میرا ایک شعر ہے:

بچاری قوم ہے رنج و تعب میں
مگر لیڈر ہیں سب عیش و طرب میں

ماخذ: مثنوی کی حکایات، مترجم: مولانا ابوالنور محمد بشیر

جواب لکھیں

%d bloggers like this: